Sir Syed University organized Seerat-un-Nabi Conference at the campus

Sir Syed University organized Seerat-un-Nabi Conference at the campus
Prof. Dr Umair Mahmood Siddiqui and Vice Chancellor Prof. Dr. Vali Uddin addressing the Seerat-un-Nabi Conference held by Sir Syed University.
ممتاز مذہبی اسکالر ڈاکٹر عمیر محمودصدیقی اور سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین سیرت النبی کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں ۔

KARACHI, March 12, 2021: Sir Syed University of Engineering & Technology (SSUET) organized the Seerat-un-Nabi Conference at the campus that was attended by the Chancellor Jawaid Anwar, Registrar Syed Sarfraz Ali and a large number of students, faculty, staff and AMUOBA members and others. Renowned naat khwan Mahmood ul Hasan Ashrafi presented Qaseeda Burda Shareef and dua was done by Prof. Dr. Ammad ul Haq.
Addressing the conference, distinguished religious scholar Prof. Dr Umair Siddiqui of Islamic Learning Department, KU, said that Allah rewarded every prophet with one particular miracle that conveyed a specific message to the humankind of that period. Any new era starts with every new miracle. Prophet Dawood had the miracle of softening the iron in his hands. People of that era learned through this miracle to prepare tools by melting or softening the iron. Similarly, prophet Suleman flew in the air to show that people can fly. Miracles of the prophets show that God opens the new venues of learning and doors of knowledge to the man through it.

Prof Dr Umair Siddiqui said that the both Baitullah and Aqsa Mosque are the centres of worshiping God and they will always be under supervision of the last holy prophet Muhammad (SAW). Whoever offers even one namaz in Aqsa mosque, Allah gives him reward of 50,000 namazes. During Mairaj, Holy prophet Muhammad observed plenty of manifestation of Allah. Wailing Wall is a place where buraq landed from the sky. God gave knowledge to man to save him from the persecution.

He pointed out that Muslims are a moderate nation but never try deform its originality in the name of modernization. There are seven routes in the sky. Angles are made of light and they reach sky from earth in one day, which is equivalent to our 50,000 years. Nevertheless, Holy prophet Muhammad went to Mairaj after Isha pray and returned home at Fajr pray. The Isra and Mairaj event describe that you can make faster means of traveling and even you can travel into the space.
Speaking on the soulful occasion, Vice Chancellor SSUET, Prof. Dr. Vali Uddin, said that the life of the holy prophet Muhammad (SAW) is the mirror of Quran’s teachings. Seerat un Nabi is the source of inspiration and guidance for every Muslim.

Highlighting the divine features of the Seerat un Nabi, Vice Chancellor Prof. Dr. Vali Uddin, said that “We shall be following the Holy Prophet, if sincerely following the Quran in its totality. He totally changed the history of humankind and the miracle of Hazrat Mohammad (SAW) was that he brought out men from darkness into light by shedding their ignorance.
Vice Chancellor Prof. Dr. Vali Uddin remarked that the success depends upon remembering Allah and following the preaching of Hazrat Mohammad (SAW).

نبی کوعطا کردہ معجزہ ہر دور کے انسانوں کے لیے ایک پیغام رکھتا ہے ۔ ۔ ڈاکٹر عمیر صدیقی آپ ﷺ وجودِ خلقِ کائنات کا سبب ہیں ۔ آپ ﷺ کی زندگی قرآنی تعلیمات کا عملی نمونہ تھی ۔ ۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرولی الدین
سرسید یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام سیرت النبی کانفرنس کا انعقاد

کراچی، 12/مارچ 2021ء ۔ ۔ سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام ایک روح پرور سیرت النبی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی نے سیرتِ طیبہ ﷺ کے حوالے سے واقعہ معراج کے مختلف پہلوءوں کو اجا گر کیا ۔ جب کہ محمود الحسن اشرفی نے قصیدہ بردہ شریف پیش کیا اور پروفیسر ڈاکٹرعمادالحق نے دعا کروائی ۔ جلسے میں چانسلر جاوید انوار، رجسٹرار سید سرفراز علی کے علاوہ اموبا کے عہدیداران اور ممبران سمیت طلباء، اساتذہ و دیگر افراد کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے پروفیسر اور معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی نے سفرِ اسراء کے اسرار و رموز اوراس سے حاصل ہونے والے علوم جاننے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ معراج ہجرت سے ایک سال قبل واقع ہوا ۔ اللہ ہر نبی کو جو معجزہ عطا فرماتا ہے وہ ہر دور کے انسانوں کے لیے ایک پیغام رکھتا ہے اور اس معجزے کے ساتھ ایک نئے عہد کا آغاز ہوتا ہے ۔ حضرت داءود علیہ السلام کے دستِ مبارک میں اللہ نے لوہے کو نرم کردیا ۔ انسانیت کو سکھایا گیاکہ لوہے کو کس طرح نرم کرکے ذرہ اور اوزار بنائے جاسکتے ہیں ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہوا میں اڑ کر دکھایا کہ انسان ہوا میں اڑ سکتا ہے ۔ یہ تمام انبیاء کے معجزات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کس عہد سے انسان کو اللہ تبارک تعالیٰ علم و معرفت کے نئے دروازے کھول کر علم کی نئی راہ دکھا رہا ہے ۔ حضور کا سفر اسراء اور معراج دنیا کو یہ درس بھی دیتا ہے کہ تم ذمین میں اپنی مسافت کے ذراءع تیز بھی کر سکتے ہو اور خلاء میں بھی سفر کر سکتے ہو ۔

پروفیسر ڈاکٹر عمیر محمود نے کہا کہ بیت اللہ ہو یا مسجد اقصیٰ دونوں کی نگرانی اللہ کے آخری نبی کے پاس ہے ۔ بیت المقدس اور بیت اللہ دونوں نسل پرستی کی بنیاد پر قائم ہونے والے مراکز نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ کی عبادت کے مراکز ہیں ۔ جس شخص نے مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کی اللہ اسے ایک کے بدلے پچاس ہزار نمازوں کا ثواب عطا فرماتا ہے ۔ حضور نے معراج میں اللہ کی ایک نہیں بلکہ بہت بڑی بڑی نشانیوں کو ملاحظہ فرمایا ہے ۔ معراج کے تین حصے ہیں ۔ یہودیوں کی دیوارِ گریہ وہ جگہ ہے جہاں پر براق آکر اترا تھا اور جہاں سے حضور معراج کے لیے روانہ ہوئے ۔ آسمانوں میں سات راستے بنائے گئے ہیں ۔ ذمین سے فرشتے اللہ کی بارگاہ میں ایک دن میں پہنچتے ہیں اورفرشتوں کا یہ ایک دن ہمارے پچاس ہزار سالوں کے برابر ہے ۔ فرشتے نوری مخلوق ہیں ۔ تاہم معراج کے لیے روانہ ہونے سے قبل حضور نے عشاء کی نماز تمام انبیاء کی امامت کرتے ہوئے ادا فرمائی اور واپسی پر نماز فجرامامت کے ساتھ عطا فرمائی ۔ علم اس لیے عطا کیا گیا تاکہ انسان فتنوں سے محفوظ رہے ۔ اسلام صرف اسلام ہے ۔ اس کے ساتھ سابقے اور لاحقے نہیں ہونا چاہئے ۔ ہم اعتدال والی امت ہیں اوراعتدال کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ دین کی شکل کو مسخ کرتے جائیں ۔

حضور ﷺ کی حیات طیبہ کی صفات کو اجاگر کرتے ہوئے سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ سرور کائنات خاتم النبین حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پُرنور شخصیت اس کائنات میں ایک ایسے درخشاں آفتاب کی مانندہےجس نے انسانی تاریخ کا رخ موڑ دیا ۔ نبی کی صفت یہ ہے کہ وہ ناممکنات کو ممکنات میں بدل دے اور محمد ﷺ کا معجزہ یہ تھا کہ انھوں نے ایک بدترین جہالت میں ڈوبے معاشرے کو علم سے منور کردیا اور عدل و مساوات کی بنیاد پر مدنیہ میں ایک ایسی فلاحی اسلامی ریاست قائم کی جس نے انسانی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا ۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ آپ ﷺ کی زندگی قرآنی تعلیمات کا عملی نمونہ تھی ۔ اگر ہم اپنی فلاح چاہتے ہیں تو ہ میں دین کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہوگا ۔ اللہ رب العزت ہ میں حضور ﷺکی طرف سے دی گئی تعلیمات کی روشنی میں اپنے عادات و اخلاق کو بہتر بنانے میں مدد دے ۔