203rd birth anniversary of Sir Syed Ahmed Khan celebrated at Sir Syed University

SIR SYED UNIVERSITY OF ENGINEERING & TECHNOLOGY
University Road, Karachi-75300, Pakistan
Tel.: 4988000-2, 4982393-474583, Fax: (92-21)-4982393

203rd birth anniversary of Sir Syed Ahmed Khan celebrated at Sir Syed University
Chancellor Jawaid Anwar, Shafiq Paracha, Dr Shadab Ahsani and Rizwan Siddiqui spoke on Sir Syed Day seminar

KARACHI, October 18, 2019 – The rich tributes were paid to the great visionary and reformer of the subcontinent Sir Syed Ahmed Khan at his 203rd birth anniversary, observed under the aegis of Aligarh Muslim University Old Boys’ Association (AMUOBA) and Sir Syed University of Engineering & Technology (SSUET) at the campus.
Speaking on the auspicious occasion, the chief guest, Former Commissioner and the famous orator Shafiq Paracha said that the past is a frozen fact, you cannot change it. Sir Syed Ahmed Khan is a symbol of revolution and modernization. Urdu language was the main driving force behind the Bination Theory that was first presented by Sir Syed Ahmed Khan. It eventually led to the formation of Pakistan. Sir Syed Ahmed Khan had a futuristic approach and for the better future of Muslims, he initiated education movement and established a chain of academic institutes. He focused on getting scientific education.
Addressing the seminar, President AMUOBA and Chancellor SSUET, Jawaid Anwar, said that Sir Syed Ahmed Khan was the great educator and Islamic reformer. He pioneered modern education for Muslim community. Time demands to follow the Sir Syed’s ideology in its true spirit. Sir Syed Ahmed Khan gave an individual identity to the Muslims of South Asia as a Nation that paved way for a separate country.
He pointed out that today youth have been driven towards the forced entrepreneurship due to the limited opportunities available for employment. Cottage industry needs to be developed for economic prosperity and stability.
Chancellor Jawaid Anwar paid glowing tribute to the Shaheed Liaquat Ali Khan who was assassinated on October 17. He highlighted the valuable services of Shaheed Hakeem Muhammad Saeed who gave the charter to Sir Syed University. He was shot dead in Karachi on October 16.
He also expressed the deep sorrow for the sad demise of the former Vice Chancellor of Sir Syed University, Prof. Dr. Syed Jawaid H. Rizvi who passed away a day before.
Renowned columnist and writer Rizwan Siddiqui said that the first person who raised voice for suppressed Muslims of the subcontinent was Sir Syed Ahmed Khan. He convinced the British rulers that Muslims were a separate nation in the subcontinent with their unique culture and religious doctrines.
Noted scholar and educationist, Dr. Shadab Ahsani said that Asar us Sanadi is one of Sir Syed’s important contributions to the Muslims legacy featuring our values. Every era is influenced by a particular ideology or personality. The universe has a dispute over invisible, not visible. The nation without narrative seems to be living in a dark age. Science is based on experiments and observations but you see that whatever you observe is not there in your reading content, and whatever you observe, you don’t find it around.
Presenting vote of thanks, General Secretary AMUOBA, Muhammad Arshad Khan said that strong will power and firm determination are the essential part of a great leader who takes the nation to the successful journey through technological advancement based on invention and innovation. Sir Syed Ahmed Khan has contributed his share and now it is our duty to carry forward his mission. He informed that AMUOBA will approach the authorities to include Sir Syed Day in the yearly calendar because Sir Syed Ahmed Khan initiated the bination theory that laid foundation to the formation of Pakistan.
The ceremony was concluded by Tarana e Aligarh.

Abdul Hamid Daccani
Dy Director Information
Caption: Chancellor Jawaid Anwar, Shafiq Paracha, Dr. Shadab Ahsani and Engr. Muhammad Arshad Khan addressing the ceremony held at the Sir Syed University to observe Sir Syed Day.

سر سیّد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی
یونیورسٹی روڈ کراچی فون نمبرز 34988000-2,34982393-3474583, فیکس : (92-21)-34982393*

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے زیراہتمام سرسید یونیورسٹی میں سرسید ڈے کا انعقاد
چانسلر جاوید انوار ، شفیق پراچہ، ڈاکٹر شاداب احسانی، رضوان صدیقی اورانجینئر ارشد خان کا خطاب

کراچی،19 / اکتوبر2019ء ۔ ۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے زیراہتمام سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے برصغیر کے عظیم مفکر سرسید احمد خان کا203واں یوم پیدائش روایتی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا گیا اور ممتاز دانشوروں نے سرسید احمد خان کی حیات و خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی سابق کمشنر شفیق پراچہ نے کہا کہ ماضی ایک منجمد حقیقت ہے، آپ اسے بدل نہیں سکتے ۔ ایک بیج میں پورا جنگل ہوتا ہے ۔ سر سید تو ایک علامت ہے تبدیلی و ترقی کی ۔ وہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جن کا صرف یومِ ولادت منایا جاتا ہے، یومِ وفات نہیں ۔ سرسید احمد خان سلطنتِ برطانیہ کے باغی تھے ۔ لیکن یہ خاموش بغاوت تھی ۔ قیام پاکستان اور دو قومی نظریہ کا محور اردو زبان تھی ۔ سرسید کے تسلسل کا دوسرا نام اقبال ہے ۔ سرسید جو بولتے تھے، کرتے تھے ۔ ۔ اقبال ہ میں راستہ دکھاتے ہیں ۔

اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈبوائز ایسوسی ایشن کے صدر اور سرسید یونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد بحثیت قوم، ہم نے سرسید احمد خان کے مشن کو تو پکڑے رکھا مگر اس کی آبیاری جس انداز میں ہونی چاہئے تھی ۔ بحثیت علمبردار، ہم نہیں کر پائے ۔ سرسید احمد خان نے برصغیر کے مسلمانوں کی بحیثیت ایک قوم پہچان کرائی اور انھیں ایک قوم کا تشخص دیا جس کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا ۔

انھوں نے کہا کہ ملازمتوں کے مواقع محدود ہونے کے باعث آج نوجوانوں کو جبری کاروباری تنظیم کاری forced entrepreneurship کی طرف رجوع کرنا لازم ہوگیا ہے ۔ معیشت کی ترقی و بہتری اور استحکام کے لیے کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دینا ہوگا ۔ گھر گھر پرزہ جات کی تیار ی ہو جنھیں بعد میں جوڑ کر مصنوعات تیار کی جائیں ۔ انھیں patent کرانے اور ملک کے اندر اور بیرونِ ملک مارکیٹنگ کے لیے حکومتی اداروں کی رہنمائی اور تعاون بہت ضروری ہے ۔

چانسلر جاوید انوار نے شہیدملت لیاقت علی خان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی شہادت پر گہرے تاسف کا اظہا ر کیا ۔ اس موقع پر انھوں نے شہید حکیم محمد سعید کی خدمات کو بھی اجاگر کیا جنھوں نے سرسید یونیورسٹی کا چارٹر منظور کیاتھا ۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کو 16اکتوبر اور حکیم محمد سعید کو 17 اکتوبر کو شہید کیا گیا ۔

اموبا کے صدر جاوید انوار نے سرسید یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید جاوید حسن رضوی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیا ۔

ممتاز اسکالر پروفیسررضوان صدیقی نے کہا کہ سرسید احمد خان برصغیر کے وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے جداگانہ قومیت کا نعرہ بلند کیا ۔ وہ جدیدیت کی اہمیت سے واقف تھے اور مسلم نشاط ثانیہ کے علمبردار بھی تھے ۔ وہ بلاشبہ برصغیر کے جملہ مسلمانوں کے محسن ہیں ۔

ڈاکٹر شاداب احسانی نے کہا کہ کائنات میں سارا جھگڑا غائب کا ہے، ظاہر کا کوئی جھگڑا نہیں ہے ۔ ہر عہد کسی نہ کسی نظریہ یا شخصیت کے زیرِ اثر ہوتا ہے ۔ زبان سے زیادہ بیانیہ اثر کرتا ہے ۔ سرسید احمد خان کا سب سے بڑا اہم کام ’’آثار الصنادید‘‘ ہے جو ہماری شناخت ہے ۔ سرسید احمد خان نے جدید سائنسی علوم سیکھنے کی ترغیب دی اور سائنس کی بنیاد مشاہدہ پر ہے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہم جو مشاہدہ کرتے ہیں وہ کتابوں میں نہیں ہوتا، اور جو کتابوں میں ہوتا ہے وہ ہ میں اطراف میں کہیں نظر نہیں آتا ۔

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری انجینئر محمد ارشد خان نے اظہارِ تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کے زینے چڑھنے کے لیے مضبوط قوت ارادی اور ثابت قدمی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سرسید احمد خان نے علیگڑھ مدرسے کی بنیاد رکھی جو درحقیقت قیامِ پاکستان کی بنیاد کی پہلی اینٹ تھی ۔ علیگ نے اپنے حصے کا کام کردیا اب المنائی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کام کو آگے بڑھائیں ۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ سال کے کیلنڈر میں سرسید ڈے بھی ہو کیونکہ پاکستا ن کے قیام کی بنیاد دوقومی نظریہ ہے جسے سب سے پہلے سرسید احمد خان نے پیش کیا تھا ۔

اختتامِ تقریب پر سرسید یونیورسٹی کے طلباء و طالبات اور علیگ نے مل کر ترانہ علیگڑھ پیش کیا ۔

عبدالحامددکنی
ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن

کیپشن: سرسید یونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار، شفیق پراچہ، ڈاکٹر شاداب احسانی اور ا موبا کے جنرل سیکریٹری انجینئر محمد ارشد خان سرسید ڈے کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں ۔